An Educational Guidance & Welfare Association مؤسسة تعليمية دعوية خيرية فريدة في نيبال
Monday, 25 October 2010
Thursday, 30 September 2010
ہندو نیپال کے ہونہار طلبہ کو توحید ایجوکیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا
ہندو نیپال کے ہونہار طلبہ کو توحید ایجوکیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا
تعلیمی ایوارڈنہ صرف طلبہ کے حوصلوں کو مہمیز لگانے کا کام کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو محنت اور لگن کی ترغیب دیتے ہیں، میں ان تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، جنھیں آج ایجوکیشنل ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔
مذکورہ خیال کا اظہار نیپالی وزیر تعلیم مسٹر گووند چودھری نے کرشنا نگر کے مسلم کمیونٹی ہال میں منعقدایوارڈ تقریب سے طلبہ و معززین شہر کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس سے قبل حافظ عبد الشہید کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا، جس کا انگریزی ترجمہ حسان نور اور نیپالی ترجمہ مولانا عبد الصبور ندوی نے پیش کیا۔ مرکز التوحید کے صدر مولانا عبد اللہ مدنی نے وزیر موصوف کا والہانہ استقبال کیا۔ اس کے بعد کرشنانگر و بڑھنی کے سات ہائی اسکول کے ہونہار طلبہ و طالبات کو توحید ایجوکیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا، جلمونا ہائی اسکول کرشنا نگر کے راگھو اگروال ، الہلال پبلک اسکول کرشنا نگر کی ام عطیہ ، سینٹ جوڈس کرشنا نگر کی ہرلین کور ، مہیندر ودیالیہ کے وجے پرکاش چودھری ، ڈاکٹر ذاکر حسین پبلک اسکول بڑھنی کی آفرین خانم ، دیا نند ودیالیہ کی چندراوتی موریہ ،اور امر بال ودیا مندر کی کومل ساہو، کو وزیر موصوف کے ذریعے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پروگرام کی نظامت صحافی صغیر خاکساراور عبد ا لصبور ندوی نے کی، اس موقع پر علافہ کے معززین و اسکولوں کے پرنسپل حضرات کے علاوہ شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ صحافی عبد الصبور ندوی کے کلمات تشکر پر پروگرام کا اختتام ہوا
اسلام ہی انسانیت کے مسائل کا واحد حل: مولانا عبد اللہ مدنی
اسلام ہی انسانیت کے مسائل کا واحد حل: مولانا عبد اللہ مدنی
جھنڈا نگر عید گاہ میں ہزاروں مرد وزن سے فکر انگیز خطاب
دنیا نے سارے تجربے کر لئے، ہر نظام کو اپنا کے دیکھا، مگر انسانیت کے مسائل حل نہ کرسکی، آج بڑی تیزی کے ساتھ اسلام چہار دانگ عالم میں پھیل رہا ہے کیونکہ اسلام ہی واحد مذہب ہے جس کے سائے میں انسانیت کو پناہ مل سکتی ہے، مگر افسوس وہ امت جس کے پاس ربانی اصول ہیں، آفاقی پیغام کی حامل ہے، اسلام سے بے گانہ ہوتی جارہی ہے،ہماری نوجوان نسل مغرب زدگی کی شکار ہے، اپنے اسلاف کے کارناموں سے غافل اس نسل کو راہ راست پر لانے کے لئے والدین کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی،۔ ان خیالات کا اظہار نیپال کے ممتاز عالم دین اور خطیب مولانا عبد اللہ مدنی نے جھنڈا نگر عید گاہ میں ہزاروں فرزندان توحید کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔جھنڈا نگر عید گاہ میں ہزاروں مرد وزن سے فکر انگیز خطاب
مولانا نے کہا کہ بیت المقدس کو منہدم کرنے کی تیاری مکمل ہے، غز ہ کے ۱۵؍ لاکھ مسلمان یہودی حصار میں کرفیو کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سرپھرا پادری قرآن جلانے پر مصر ہے، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ وہ خود بھسم ہوجائیگا، مگر مسلمانان عالم کو اپنے اسلامی کردار و تشخص کوعملا دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا، تبھی ہماری سرفرازی ممکن ہوگی، مولانا نے اپنے پر سوز خطاب میں میں خواتین امت کو تنبیہ کی کہ آپ ایک مدرسہ ہیں اگر آپ نے خود کو اسلامی رنگ میں نہیں ڈھا لا تو نسلیں تباہ ہوجائیں گی، آپ نے اخیر میں طویل دعا مانگی، لوگ رو پڑے، خواتین کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں۔ آپ نے بابری مسجد کے متعلق ممکنہ فیصلے پر عوام کو پر امن رہنے کی تلقین کی۔
Wednesday, 1 September 2010
دوحہ قطر میں دوروزہ اجلاس عام اختتام پذیر
دوحہ قطر میں دوروزہ اجلاس عام اختتام پذیر
دوحہ قطر ؍ ۲۹ اگست(ایس اے ایم)
مؤسسۃ الشیخ عید بن محمد آل ثانی الخیریۃ کے ذیلی دعوتی ادارہ مرکز ضیوف قطر للتعریف بالاسلام کی جانب سے نیپالی جالیہ کپل وستو مسلم سماج کے تعاون سے دوشبی اجلاس عام کا انعقاد حمد ہاسپٹل نزد لؤلؤ سنٹر کے بغل میں بتاریخ ۲۳؍ اور ۲۵ ؍ اگست کو منعقد ہوا ،جس میں مؤسسۃ عید بن محمد آل ثانی نے اپنے ذیلی دعوتی ا دارہ مرکز ضیوف قطر کیجانب سے نیپال کی معروف و مشہور شہرت یافتہ خطیب (داعی) مولانا عبد اللہ عبد التواب مدنیؔ کو مدعو کیا جنہوں نے اپنی طبیعت کی ناسازگی کے باوجود حاضری دیکر دو اہم موضوعات پر بصیرت افروز معلوماتی خطاب سے نسائم الخیر(۶) کے خیمہ رمضانیہ میں جمع ہوئے نیپالی اور ہندوستانی مسلمانوں کو اسلامیں تعلیمات سے روسناش کرائے۔
خیال رہے یہ اجلاس عام دو نششتوں پر منقسم تھا پہلی نششت ۲۳ ؍ اگست بروز سوموار کو خیمہ رمضانیہ میں منعقد ہوئی جس میں کم و بیش ۱۵۰۰ ؍ افراد جمع ہوئے بز م کا �آغاز مولانا و حافظ مطیع الرحمن کے ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت سے ہوئی کنوینرنگ کا فریضہ انجام مولانا حافظ شمس الدین مدنی داعیہ مرکز ضیوف قطر دے رہے تھے۔پہلا خطاب ڈاکٹر عبد القیوم مدنی ؔ نے ’’روزہ اور تزکیۂ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں ! اللہ رب العالمین نے ہم سب کو سال بھر میں ایک مرتبہ ایک ایسا موقع نصیب فرماتا ہے جس کے ذریعہ نفس کی طہارت اور اس کا تزکیہ ہوسکتا ہے جس میں ہم اکثر پیچھے رہتے ہیں،رمضان کے ا س متبرک ماہ میں ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت اور تزکیۂ نفس کرنا چاہیئے۔بعد افطار نیپال کے داعی مولانا عبد اللہ المدنیؔ نے ’’ فلسطین، یہود اور ہم ‘‘ کے موضوع پر ایجازا مگر پر مغز خطاب کی اور اپنے اس مختصر سے وقت میں برنک موضوع پر جس بے باکانہ انداز کا مظاہرہ کیا اس سے ظاہر ہے کہ آپ اس موضوع پر کس درجہ علم رکھتے ہیں ،نصف ساعہ کے اس خطابی اجلاس میں لوگو ں پر سکوت طاری رہا،اور دوسرے دن کے خطاب میں کپلوستو مرکز امام احمد بن حنبل کے صدر مولانا عبد الحئی المدنی نے’’ قرآن اور ہم ‘‘موجودہ دور میں قرآن کے ساتھ لوگوں (مسلمانوں)کی کس قدر بے رغبتی ہے اس کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب منزل من اللہ جس کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لے رکھی ہے،مزید کہا کہ یو ں توآسمانی چار کتابیں آئیں لیکن قرآن کے علاوہ سب میں تحرتف ان کے ماننے والوں نے کرڈالے مگر قرآن اپنی اصلی صورت میں ہے ،دنیا والے لاکھ کوشش کریں اس کے نسخہ کو جلاڈالیں پر یہ قرآن نہ تو بدلا جاسکتا ہے نہ ہیں ختم کیا جاسکتاہے۔
مولانا عبد اللہ مدنیؔ صدرمرکز التوحید نے نیپالی مسلمانوں کو نیپال میں مسلمانوں کی تاریخ کیا رہی ہے ،بعنوان ’’ نیپالی مسلمان کل،آج اور کل‘‘ پر طائرانہ نظر ڈالی
مؤسسۃ الشیخ عید بن محمد آل ثانی الخیریۃ کے ذیلی دعوتی ادارہ مرکز ضیوف قطر للتعریف بالاسلام کی جانب سے نیپالی جالیہ کپل وستو مسلم سماج کے تعاون سے دوشبی اجلاس عام کا انعقاد حمد ہاسپٹل نزد لؤلؤ سنٹر کے بغل میں بتاریخ ۲۳؍ اور ۲۵ ؍ اگست کو منعقد ہوا ،جس میں مؤسسۃ عید بن محمد آل ثانی نے اپنے ذیلی دعوتی ا دارہ مرکز ضیوف قطر کیجانب سے نیپال کی معروف و مشہور شہرت یافتہ خطیب (داعی) مولانا عبد اللہ عبد التواب مدنیؔ کو مدعو کیا جنہوں نے اپنی طبیعت کی ناسازگی کے باوجود حاضری دیکر دو اہم موضوعات پر بصیرت افروز معلوماتی خطاب سے نسائم الخیر(۶) کے خیمہ رمضانیہ میں جمع ہوئے نیپالی اور ہندوستانی مسلمانوں کو اسلامیں تعلیمات سے روسناش کرائے۔
خیال رہے یہ اجلاس عام دو نششتوں پر منقسم تھا پہلی نششت ۲۳ ؍ اگست بروز سوموار کو خیمہ رمضانیہ میں منعقد ہوئی جس میں کم و بیش ۱۵۰۰ ؍ افراد جمع ہوئے بز م کا �آغاز مولانا و حافظ مطیع الرحمن کے ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت سے ہوئی کنوینرنگ کا فریضہ انجام مولانا حافظ شمس الدین مدنی داعیہ مرکز ضیوف قطر دے رہے تھے۔پہلا خطاب ڈاکٹر عبد القیوم مدنی ؔ نے ’’روزہ اور تزکیۂ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں ! اللہ رب العالمین نے ہم سب کو سال بھر میں ایک مرتبہ ایک ایسا موقع نصیب فرماتا ہے جس کے ذریعہ نفس کی طہارت اور اس کا تزکیہ ہوسکتا ہے جس میں ہم اکثر پیچھے رہتے ہیں،رمضان کے ا س متبرک ماہ میں ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت اور تزکیۂ نفس کرنا چاہیئے۔بعد افطار نیپال کے داعی مولانا عبد اللہ المدنیؔ نے ’’ فلسطین، یہود اور ہم ‘‘ کے موضوع پر ایجازا مگر پر مغز خطاب کی اور اپنے اس مختصر سے وقت میں برنک موضوع پر جس بے باکانہ انداز کا مظاہرہ کیا اس سے ظاہر ہے کہ آپ اس موضوع پر کس درجہ علم رکھتے ہیں ،نصف ساعہ کے اس خطابی اجلاس میں لوگو ں پر سکوت طاری رہا،اور دوسرے دن کے خطاب میں کپلوستو مرکز امام احمد بن حنبل کے صدر مولانا عبد الحئی المدنی نے’’ قرآن اور ہم ‘‘موجودہ دور میں قرآن کے ساتھ لوگوں (مسلمانوں)کی کس قدر بے رغبتی ہے اس کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب منزل من اللہ جس کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لے رکھی ہے،مزید کہا کہ یو ں توآسمانی چار کتابیں آئیں لیکن قرآن کے علاوہ سب میں تحرتف ان کے ماننے والوں نے کرڈالے مگر قرآن اپنی اصلی صورت میں ہے ،دنیا والے لاکھ کوشش کریں اس کے نسخہ کو جلاڈالیں پر یہ قرآن نہ تو بدلا جاسکتا ہے نہ ہیں ختم کیا جاسکتاہے۔
مولانا عبد اللہ مدنیؔ صدرمرکز التوحید نے نیپالی مسلمانوں کو نیپال میں مسلمانوں کی تاریخ کیا رہی ہے ،بعنوان ’’ نیپالی مسلمان کل،آج اور کل‘‘ پر طائرانہ نظر ڈالی
Thursday, 5 August 2010
سرپرستوں کے لئے
ضروری اعلان
ضروری اعلان
طالبات کے سرپرست حضرات سے گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل ہدایات پر توجہ دیں گے:
* بچیوں سے صرف محرم رشتہ دار ہی ملاقات کرسکتے ہیں، کسی دوسرے رشتہ دار کے ہمراہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
* بارہ سال کی عمر کی طالبہ لازماً نقاب کا اہتمام کریں۔
* ملاقات کے لئے ۲؍بجے کے بعد تشریف لائیں، بعد نماز مغرب ملاقات نہیں ہوسکے گی۔
* تعطیل کی وجہ سے جمعہ کے دن ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
* مدرسہ میں آنے کے بعد محاسب سے بچی کا حساب معلوم کریں اور اجازت ملنے کے بعد ہی ملاقات کے لئے
گیٹ پر جائیں۔
* پابندی کے ساتھ فیس طعام وغیرہ کی ادائیگی کرتے رہیں۔
* بچیوں سے صرف محرم رشتہ دار ہی ملاقات کرسکتے ہیں، کسی دوسرے رشتہ دار کے ہمراہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
* بارہ سال کی عمر کی طالبہ لازماً نقاب کا اہتمام کریں۔
* ملاقات کے لئے ۲؍بجے کے بعد تشریف لائیں، بعد نماز مغرب ملاقات نہیں ہوسکے گی۔
* تعطیل کی وجہ سے جمعہ کے دن ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
* مدرسہ میں آنے کے بعد محاسب سے بچی کا حساب معلوم کریں اور اجازت ملنے کے بعد ہی ملاقات کے لئے
گیٹ پر جائیں۔
* پابندی کے ساتھ فیس طعام وغیرہ کی ادائیگی کرتے رہیں۔
تعطیل رمضان المبارک اور نیا تعلیمی سال
* سالانہ امتحان کے بعدمورخہ۵؍اگست ۲۰۱۰ء مطابق ۲۳؍شعبان ۱۴۳۱ھ سے مدرسہ میں رمضان المبارک
کی تعطیل ہوگی، بچیوں کے سرپرست ۵؍اگست کی صبح تشریف لائیں، گذارش ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے آکر اپنا
وقت ضائع نہ کریں۔
* عید کے بعد۱۷؍ستمبر ۲۰۱۰ء مطابق ۷؍شوال ۱۴۳۱ھ سے مدرسہ دوبارہ کھل جائے گا، قدیم طالبات۲۱؍ستمبر تک
لازماً مدرسہ میں حاضر ہوجائیں، ورنہ جگہ کی کمی کی وجہ سے داخلے میں دشواری ہوگی۔
نوٹ: داخلہ کی درخواست رمضان المبارک میں جمع کردیں۔
* نئے داخلے کی خواہش مند طالبات کا ٹیسٹ۱۹؍ستمبر۲۰۱۰ء مطابق۹؍شوال ۱۴۳۱ھ بروزاتواربوقت۱۰؍بجے
صبح ہوگا، اس سے پہلے طالبات کو نہ لائیں۔
کی تعطیل ہوگی، بچیوں کے سرپرست ۵؍اگست کی صبح تشریف لائیں، گذارش ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے آکر اپنا
وقت ضائع نہ کریں۔
* عید کے بعد۱۷؍ستمبر ۲۰۱۰ء مطابق ۷؍شوال ۱۴۳۱ھ سے مدرسہ دوبارہ کھل جائے گا، قدیم طالبات۲۱؍ستمبر تک
لازماً مدرسہ میں حاضر ہوجائیں، ورنہ جگہ کی کمی کی وجہ سے داخلے میں دشواری ہوگی۔
نوٹ: داخلہ کی درخواست رمضان المبارک میں جمع کردیں۔
* نئے داخلے کی خواہش مند طالبات کا ٹیسٹ۱۹؍ستمبر۲۰۱۰ء مطابق۹؍شوال ۱۴۳۱ھ بروزاتواربوقت۱۰؍بجے
صبح ہوگا، اس سے پہلے طالبات کو نہ لائیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)